نھضۃ العلماء اور عالمی مسلم لیگ کی تحریک سے سبق لیں ہندوستانی علماء

گذشتہ ایک سال میں ہندوستان میں دو اہم مذہبی سرگرمیاں دکھائی دی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہندوستانی اور انڈونیشیا کے علماء بین المذاہب مکالمے پر کام کرنا چاہتے ہیں۔ تو وہیں دوسری سرگرمی شیخ محمد عبدالکریم العیسی، جو سعودی عرب میں قائم ورلڈ مسلم لیگ کے سربراہ ہیں ان کادورہئ ہند ہے۔شیخ اسی طرح کے مشن پر ہندوستان آئے تھے۔ان دونوں سرگرمی نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے۔ جس پر ہندوستانی علماء کو فوری طور پر عمل کرنا ہوگا۔

ہندوستانی علماء کے لئے سبق آموز کیوں؟پہلی بات تو یہ ہے کہ ہندوستان اسلامک اسٹیٹ آف عراق اینڈ سیریا (ISIS) جیسے گروپوں اور ہم خیال گروپوں کی طرف سے پھیلائے گئے انتہا پسندانہ خیالات سے محفوظ ہونے کے باوجود، خطرہ برقرار ہے کیونکہ یہ گروپ ہندوستان کے قریبی پڑوسی ملک میں سرگرم ہیں۔ دوسرا، جمہوری افکار کی تیز رفتار پیش رفت اور تکنیکی ترقی نے نئے ماحول میں تیزی سے ہم آہنگ ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔

ہندوستان اور انڈونیشیا میں دنیا کی دو سب سے بڑی مسلم آبادی تقریباً 200 ملین ہے۔ اتنی بڑی تعداد کی مذہبی سرگرمیاں اسلام اور عالمی سیاست میں اس کے کردار کے بارے میں دیرپا تاثر چھوڑتی ہیں۔ ان دونوں ممالک کی مذہبی تنوع کی گہری تاریخیں ہیں اور اس طرح پرامن بقائے باہمی اور ہم آہنگی کے جمہوری اصولوں پر زور دینا فطری طور پر مفید ہو گا۔

ہندوستان کی طرح انڈونیشیا کو بھی چند سال پہلے ہی مذہبی انتہا پسندی کے خطرے کا سامنا تھا۔ بدنام زمانہ بالی بمباری ماضی قریب کا ایک سنگین معاملہ ہے۔ لیکن انڈونیشیا کی حکومت نے تنظٰم نہضۃ العلماء کے ذریعے ایک حل نکالا – یہ ایک روایت پسند تنظیم ہے۔ جس کی 95 ملین سے زیادہ رکنیت ہے – یہ تنظیم اس لئے قائم کی گئی تھی تاک عالمی سطح پر اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جا سکے۔ 1926 میں علماء اور تاجروں کے ذریعے روایتی اسلامی طریقوں (شافعی مسلک کے مطابق) اور اس کے اراکین کے اقتصادی مفادات کے دفاع کے لیے قائم کیا گیا، یہ تنظیم آج مذہبی اصلاحات اور غربت کے خاتمے کے لئے ایک چشمہ بن چکی ہے۔

اسلام کے بارے میں انڈونیشیا کی تعلیم میں جو چیز خاص طور پر منفرد ہے وہ یہ ہے کہ مذہبی تعلیمات کو مقامی سیاق و سباق کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ اسلام کے اصولوں کو ہر حال میں سیاق و سباق کے مطابق ڈھالا جا سکتا ہے اور اس سے دین میں شدت کے بجائے،آسانی پیدا ہوجاتی ہے۔اگر اسلام کی سخت تشریح کی جائے تو یہ بنیادی طور پر بنیاد پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کی افزائش گاہ بن جاتی ہے۔ نہضۃ العلماء نے جو نیاطریقہ ایجاد کیا ہے وہ ”انسان دوست اسلام” ہے جوسبھی مذاہب کے ماننے والوں تک اپنی بات کو پہونچاتا ہے اور سب کو محض انسانیت کے ناطے اپناتا ہے۔

اسلامی اقدار کی تبلیغ کے علاوہ، نہضۃ العلماء اپنے 6,830 اسلامی بورڈنگ اسکولوں (یا pesantren) کے نیٹ ورک کے ذریعے تعلیمی سرگرمیاں انجام دیتی ہے۔ اس کے زیر انتظام 44 یونیورسٹیوں کاقیام بھی ہے۔اس تنظیم کے ذریعہ اقتصادی اور زرعی علوم سماجی خدمات جیسے خاندانی منصوبہ بندی کی تعلیمات کو فروغ دیتی ہے۔ 2019 میں، اس تنظیم نے غیر مسلموں کو پکارنے کے لئے ”کافر” کی اصطلاح کو ختم کرنے کا مطالبہ کیاتھا۔

انڈونیشیا کی طرف حمایت اور تعاون کا ہاتھ بڑھاتے ہوئے، ہندوستان کا مقصد ’اعتدال پسند اسلام‘ کے اس نظریے کو سامنے لانا ہے۔ ہندوستانی علماء کو نہضۃ العلماء کی تحریک سے سبق لینا ہوگا۔ اور خود کو تعلیمی سرگرمیوں میں لگانا ہوگا۔ انہیں لائن کے اندر اصلاحات کرنے کے لیے باہمی متفقہ چارٹر کے ساتھ آنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہندوستانی علماء کومدارس میں اصلاح کرنا ہوگا۔ یا اس سمت میں حکومتی اقدامات کا خیرمقدم کرنا ہوگا۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ اگر مسلم معاشرے میں کوئی غیر مسلم موجود ہے تو انہیں کسی بھی ”غیر مسلم سے دوری کا نظریہ“ ترک کرنا ہوگا۔

نہضۃ العلماء کی طرح، جدہ میں مقیم ورلڈ مسلم لیگ، جس کا دنیا بھر کے مسلمانوں میں ایک وسیع نیٹ ورک ہے، نے واضح کیا ہے کہ کس طرح اصلاحات کو شروع کیا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر العیسیٰ کی قیادت میں ایم ڈبلیو ایل نے متعدد مذہبی متن سے پرہیز کرتے ہوئے مثالی جرأت کا مظاہرہ کیا ہے جو کسی نہ کسی طرح اختلاف کے بیج بوتے تھے یا ان کی تشریحات میں مبہم تھے۔ ایسا سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی حمایت سے کیا گیا ہے جو بظاہر اصلاحات پر مبنی سعودی عرب کا واضح وژن رکھتے ہیں جس پر وہ اپنے والد شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے بعد حکومت کرنے والے ہیں۔

سعودی شاہی خاندان نے اب تک وہابیت کی پیروی اور اسے فروغ دیا تھا اور تحریک کو تعلیم اور عوامی اخلاقیات پر اختیار دیا تھا۔ سخت گیر نظریے کی تحریک کو دھیرے دھیرے کنارہ کیا جا رہا ہے، جس سے یہ دوسرے نقطہ نظر اور بدلتے ہوئے حالات نظر آ رہے ہیں۔

MWL، ڈاکٹر العیسیٰ کے ماتحت، اپنی اعتدال پسندی اور عالمی امن کے لئے جانا جاتا ہے۔ اپنے ہندوستان کے دورے کے دوران، انہوں نے ہندوستانی علماء سے کہا کہ وہ ”منافرت پھیلانے والی کتابوں ” کو ٹھیک کریں اور مذہبی نصابی کتابوں میں اصلاحات کریں۔ انہوں نے ہندوستان کو ایک مثالی جمہوریت اور مسلمانوں کے رہنے کے لیے ایک بہترین جگہ بھی قرار دیا۔

اب یہ ذمہ داری ہندوستانی علماء پر ہے کہ وہ نہضۃ العلماء اور MWL کی اصلاحات سے فوری طور پر سبق لیں جنہوں نے ہمت کے ساتھ خود کو مسلمانوں کے افکار و اطوار میں تبدیلی کے محرک کے طور پر قائم کیا ہے۔ ہندوستانی علماء کو بھی چاہئے کہ وہ اب اسی طرح کی ہمت کا مظاہرہ کریں اور اپناقیمتی وقت ضائع کیے بغیر اصلاحی راستے پر چلیں۔
قیادت مثالی طور پر معروف مدارس اور علمائے کرام کو کرنی چاہیے۔ اور اس طرح انہیں تبدیلی کرنے میں سب سے آگے بھی ہونا چاہیے۔ وقت ان کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *