منگلورو کا پاوور گاؤں: پرامن بقائے باہمی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا سرسبزوشاداب چمن

جب ہندوستانی میڈیا مسلسل مسلم مخالف اور اسلام مخالف بیانات چلا کر ملک بھر میں منافرت کی بیج بو رہی ہے۔تو اسی دوران منگلورو علاقہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں پاوور میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ایک مثال قائم کی گئی ہے۔

اس گاؤں میں ہندو مسلم اور عیسائی رہتے ہیں۔ اور سب کی عبادت گاہیں ہیں۔ان عبادت گاہوں تک جانے کے لئے سبھی نے مل کر ایک داخلی گیٹ تعمیر کرا کر مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے ایک مہم شروع کی ہے۔

لوگوں کے متحد ہوکراس گیٹ کو تعمیر کرانے کے بعد اب اس دروازے سے ہندو شری ویدیا ناتھ مندرمیں، مسلمان المبارک جمعہ مسجد میں اور عیسائی انفینٹ جیسس چرچ کی طرف جا سکیں گے۔

منگلورو کے ایم ایل اے یو ٹی کھدر نے بتایا کہ اس گیٹ کاسنگ بنیاد رکھنے کی تقریب حال ہی میں منعقد ہوئی تھی۔او ر اس میں ‘تمام مذاہب اور سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہوئے تھے۔ اور سبھی کے اتفاق رائے اس کا تعمیر کرایا گیا ہے۔ یو ٹی کھدر نے آگے کہا کہ منتخب نمائندے، مذہبی رہنما اور پاوور گاؤں کے باشندے مذہبی ہم آہنگی کی علامت کا سنگ بنیاد رکھنے کے لیے آگے آئے ہیں، جو ہندوستان جیسے کثیر مذہبی معاشرے میں پرامن طریقے سے رہنے کے لیے ضروری ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ گیٹ میرے والد مرحوم یو ٹی فرید کی یاد میں بنایا گیا ہے، جو اس وقت اُلال حلقہ سے ایم ایل اے اور جنوبی کرناٹک میں مذہبی ہم آہنگی کے سفیر مانے جاتے تھے۔ اورہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے کوشاں رہتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ پاور کے باشندے اپنے گاؤں کو مزید ہم آہنگ جگہ بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہے ہیں اور وہ امن کو خراب کرنے کے لیے کسی مذہبی پروپیگنڈے پر توجہ نہیں دیتے۔پاوور گاؤں پرامن بقائے باہمی کا ایک سرسبزوشاداب باغ ہے جہاں لوگ مذہب اور سیاست کے نام پر تنازعات کی پرواہ کئے بغیر ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس گاؤں نے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال قائم کی ہے۔ پورے ملک میں اس طرح کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ضرورت ہے جو کہ تنوع میں ہندوستان کے اتحاد کی بنیاد ہے۔منتخب نمائندوں، مذہبی رہنماؤں اور پاور گاؤں کے رہائشیوں نے میرے والد یو ٹی فرید کی یاد میں مذہبی ہم آہنگی کا ایک داخلی گیٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جو سابقہ الال حلقہ کے ایم ایل اے تھے۔ کسی قوم میں امن سے رہنے کے لیے عام آدمی کے لیے مذہبی ہم آہنگی ضروری ہے۔ یہ وہی ہم آہنگی ہے جو ہندوستان کے تنوع میں اتحاد کی بنیاد ہے۔ پاوور گاؤں ایک پرامن سرزمین ہے جہاں لوگ مذہب اور سیاست کے نام پر تنازعات کے بغیر ہم آہنگی سے رہتے ہیں۔ گاؤں کو مزید ہم آہنگ بنانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے، انھوں نے مندر، مسجد اور چرچ کے لیے ایک ہی گیٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاوور کے لوگ فرقہ پرست طاقتوں کے پروپیگنڈے پر توجہ نہیں دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ترقی کی بات کی جائے تو گاؤں نے تبدیلیوں کا سمندر دیکھا ہے۔ میں نے پہلے ہی کئی ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز منظور کیے ہیں جن میں ایک مین روڈ کی تعمیر کے لیے 30 لاکھ روپے شامل ہیں۔ پاوور کو معاشرے کے تمام طبقوں کے لوگوں کی شرکت سے ایک ماڈل گاؤں بنانے کے لیے مزید فنڈز منظور کیے جائیں گے۔

کھدر نے مزید کہاہم آہنگی سیکولرازم کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے جو ہندو ازم اور ہندوتوا کے خلاف نہیں ہے اورنہ مسلمانوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے یہاں ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے فرقہ وارانہ خطوط پر رائے دہندوں کے پولرائزیشن کے عمل کی مذمت کی اور کہا کہ تمام سیاسی قائدین کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ کرناٹک اسمبلی کے آئندہ انتخابات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کئے بغیر کرائے جائیں۔ سیاست دانوں سے لے کر سماجی، ثقافتی اور مذہبی رہنماؤں تک، ماہرین تعلیم، خواتین رہنما، میڈیا، مصنفین اور دیگر سبھی اس سلسلے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں۔

ہندو مسلم تنازعہ کے اس دور میں، جو اکثر میڈیا کی سرخیوں میں رہتا ہے، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی کہانیاں کھو جاتی ہیں۔ پاوور گاؤں میڈیا کی اس طرح کی نظر اندازی کی بہترین مثال ہے۔ پرامن بقائے باہمی کی یہ داستان سنانے والا کوئی نہیں ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *